مرکز تحقیق ضیائے طیبہ نے اپنے امام اہل سنت شاہ امام احمد رضا خاں محقق بریلوی کے رضوی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مفت نصاب کی تقسیم کا شعبہ بنام بک بینک قائم کر دیا
کیانصاب کی مفت فراہمی میں طلبہ کی اعانت ہونی چاہیے۔۔۔؟؟
انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے مطابق تعلیم تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔۔۔ جب کہ اس ہوش ربا مہنگائی کے دور میں، خورد ونوش کے لیے اور جو لوگ کرائے کے مکانوں میں رہنے پر مجبور ہیں، اُنھیں خوردو نوش کے ساتھ ساتھ کرائے کی ادائیگی اور دیگر ضروریات و حاجات کے لیے جہاں قرض لینا پڑتا ہو، ایسے ماحول میں بچوں کو تعلیم دلانا غریب آدمی کے لیے محض ایک خواب ہی ہوتا ہے۔۔۔
دینی تعلیم کے حصول کو آسان بنانے کے لیے بہت سے دینی اداروں میں اگرچہ طلبہ سے کسی قسم کی فیس نہیں لی جاتی، تاہم، نصابی کتابوں کی خریداری اُن کے لیے ایک ذہنی کوفت اور اُلجھن (Tension) کا باعث بنتی ہے اور وہ مزید قرض لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔۔۔
اگر نصاب کی بات کی جائے تو یہ ایک بدیہی امر ہے کہ نظامِ تعلیم میں نصاب کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔۔۔
ایک معیاری نصاب بےشمار معیاری علماء تیار کرنے کا اہم ذریعہ بنتا ہے۔۔۔
اہلِ سنّت کے دینی اداروں کے طلبہ میں ایک اچھے اور معیاری نصاب کی فراہمی اور وہ بھی مفت یقیناً ایک قابلِ ذکر اور لائقِ صدستائش اقدام ہے۔۔۔
فروغِ تعلیم کے لیےطلبہ میں مفت نصاب کی فراہمی جیسے کارِخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی پہلے بھی کم ضرورت نہیں تھی؛ لیکن دورِ حاضر میں تو پہلے سے بھی کہیں زیادہ اشد ضرورت ہے۔۔۔
لہٰذا، نصاب کی مفت فراہمی میں طلبہ کی اعانت ضرور بالضرور ہونی چاہیے اور وہ بھی عزت کے ساتھ۔۔۔
اس مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر نظر دوڑائی جائے تو اہل سنت کے علمی میدانوں میں دور دور تک صرف خلا ہی نظر آتا ہے۔۔۔ ضرورت اس امر کی پیش آئی کے ایسا کوئی شعبہ قائم کیا جائے۔۔۔
جس کے تحت ہر سال محنتی طلبہ میں درسی نصابی کتب کی مفت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔۔۔
مجددِ دین و ملّت پروانۂ شمعِ رسالت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی نے تحریر فرمایا کہ:
طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گرویدہ ہوں۔۔۔
طبائع طلبہ کی جانچ ہو، جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اس میں لگایا جائے۔۔۔ یوں ان میں کچھ مدرسین بنائے جائیں، کچھ واعظین، کچھ مصنفین، کچھ مناظرین۔۔۔ کوئی کسی فن پر، کوئی کسی پر۔۔۔
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت نے یہ نہ صرف تحریر فرمایا بلکہ خود بھی ایسا عمل کر دکھایا جو آپ کے بعد آج تک کہیں نظر نہ آیا۔۔۔ کہ آپ دارالعلوم منظرِ اسلام کے طلبہ پر بہت شفیق وکریم تھے، خوشیوں کے موقعوں پر، عید کےدنوں میں، اُن کے لیے نئے نئے کپڑے بنواتے اور قسم قسم کے کھانے پکوا کر کھلاتے تھے، عرب طلبہ کے لیے عربی کھانا، روسی طلبہ کے لیے روسی کھانا، بنگالی طلبہ کے لیے بنگالی کھانا، سندھی کے لیے سندھی کھانا، پنجابی طلبہ کے لیے پنجابی کھانا؛ الغرض، جن طلبہ کو جو کھانا مرغوب ہوتا وہ پکوا کر اُس کو کھلاتے اور کھلا کھلا کر خوش ہوتے۔۔۔
اسی فکر کے پیش نظر۔۔۔
الحمدللہ تعالٰی۔۔۔!
مرکز تحقیق ضیائے طیبہ نے اپنے امام کے رضوی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مفت نصاب کی تقسیم کا ایک شعبہ بنام بک بینک قائم کر دیا ہے۔۔۔
یعنی طلبہ کی اپنے نئے تعلیمی سال میں یا نئے درجہ میں قدم رکھنے کی خوشی کو مفت نصاب فراہم کر کے دوبالا کر دیا جائے۔۔۔
الحمدللہ تعالیٰ۔۔۔
اس کارِ خیر کے لیے مرکزِ تحقیق ضیائے طیبہ نے اپنے ادارے سے جڑے مخلص احباب کے ساتھ مل کر شعبہ بک بینک کی ایک منظم کمیٹی تشکیل دی ہے۔۔۔
جس میں سب سے اول عزت کے ساتھ اور دوم معیاری نصابی کتب محنتی و ضرورت مند طلبہ کو دی جائیں۔۔۔
کمیٹی کی اولا ترجیح جس میں بالخصوص سب سے مہنگا نصاب یعنی درجہ عالیہ و عالمیہ (سال اول و دوم) کو ترجیحی بنیادوں پر اہل طلبہ تک پہنچانا اور ان کی تعلیمی کارکردگی کی خیر خبر رکھنا ہے۔۔۔
جب کہ رضوی مشن کے اس شعبے بک بینک کے دیگر اغراض و مقاصد میں مندرجہ ذیل کو وقتا فوقتا اپنے ہدف تک پہنچانا ہے۔۔۔
1. محنتی طلبہ کو وظائف کی فراہمی و دیگر اسکالر شپ پیش کی جائے۔۔۔
2. نصابی کتب کے ساتھ مطالعے کی دیگر کتب بھی بطور تحفہ، قرض حسنہ یا عاریتاً دینا۔۔۔
3. مستعمل شدہ نصاب کو جمع کرنے کی مہم چلانا اور پھر ضرورت مند طلبہ میں تقسیم کرنا۔۔۔
4. مخیر حضرات کے ساتھ مل کر نئے نصاب کی اشاعت کا اہتمام کرنا۔۔۔
5. خصوصاً نصابی کتب پر اسلاف و اخیار کے قدیم و جدید حواشی (Notes) کی اشاعت کرنا۔۔۔
اہل علم و دانش اور بالخصوص اہل سنت کے لئے کوشاں مخلص احباب ذی شعور کو ضیائےطیبہ اپنے اس کار خیر میں اپنا ہمقدم دیکھنا چاہتی ہے۔۔۔
ضیائے طیبہ کے کیے گئے اس اقدام سے کیا آپ مطمئن ہیں۔۔۔؟
آپ کا مشورہ اور تجویز ہمارے لئے حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔۔۔
والسلام۔۔۔
فقیر سید محمد مبشر اللہ رکھا قادری رضوی غفرلہ